MOJ E SUKHAN

ظالم یہ خموشی بے جا ہے اقرار نہیں انکار تو ہو

ظالم یہ خموشی بے جا ہے اقرار نہیں انکار تو ہو
اک آہ تو نکلے توڑ کے دل نغمے نہ سہی جھنکار تو ہو

ہر سانس میں صدہا نغمے ہیں ہر ذرے میں لاکھوں جلوے ہیں
جاں محوِ رموزِ ساز تو ہو دل جلوہ گہِ انوار تو ہو

شاخوں کی لچک ہر فصل میں ہے ساقی کی جھلک ہر رنگ میں ہے
ساغر کی کھنک ہر ظرف میں ہے مخمور تو ہو سرشار تو ہو

کیونکر نہ شبِ مہ روشن ہو کیوں صبح نہ دامن چاک کرے
کچھ وصف رموزِ حسن تو ہو کچھ شرحِ جمالِ یار تو ہو

سینے میں خطائیں مضطر ہیں انعام کا وہ اقرار کریں
منصور ہزاروں اب بھی ہیں اے جوشؔ صلے میں دار تو ہو

(حضرت جوش ملیح آبادی)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم