MOJ E SUKHAN

عجب تلاش مسلسل کا اختتام ہوا

غزل

عجب تلاش مسلسل کا اختتام ہوا
حصول رزق ہوا بھی تو زیر دام ہوا

تھا انتظار منائیں گے مل کے دیوالی
نہ تم ہی لوٹ کے آئے نہ وقت شام ہوا

ہر ایک شہر کا معیار مختلف دیکھا
کہیں پہ سر کہیں پگڑی کا احترام ہوا

ذرا سی عمر عداوت کی لمبی فہرستیں
عجیب قرض وراثت میں میرے نام ہوا

نہ تھی زمین میں وسعت مری نظر جیسی
بدن تھکا بھی نہیں اور سفر تمام ہوا

ہم اپنے ساتھ لئے پھر رہے ہیں پچھتاوا
خیال لوٹ کے جانے کا گام گام ہوا

 

آنس معین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم