MOJ E SUKHAN

عجب ہجوم سوالوں کا روندتا ہے مجھے

غزل

عجب ہجوم سوالوں کا روندتا ہے مجھے
میں کون ہوں میں کہاں سے ہوں کیا ہوا ہے مجھے

بکھر نہ جائے کہیں جسم و جاں کا پل میرا
وہ مجھ پہ چل کے ابھی پار کر رہا ہے مجھے

اسے شعور کی دیمک نہ لگ گئی ہو کہیں
وجود اب کے بہت بھربھرا ملا ہے مجھے

پھر ایک بار ہوں گم گشتگی کی خاک میں دفن
پھر ایک شخص نے قصداً بھلا دیا ہے مجھے

میں اپنے آپ کو بیمار کرتا رہتا ہوں
بچھڑ کے تجھ سے یہی کام رہ گیا ہے مجھے

آکاش عرش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم