MOJ E SUKHAN

عجیب بزم کا نقشہ ہے کیا کیا جاٸے

عجیب بزم کا نقشہ ہے کیا کیا جاٸے
ہر ایک چہرےپہ چہرہ ہے کیا کیا جاٸے

ہوا میں شورسا برپا ہے کیا کیا جاٸے
لہو لہان پرندہ ہےکیا کیا جاٸے

تمہار شہر میں بے چہرہ جسم پھرتے ہیں
ہر ایک شخص ادھورا ہے کیا کیا جاٸے

شک آسماں کاہوا أس کو خطِ پانی پر
کہ چاند جھیل میں أترا ہے کیا کیا جاٸے

ہیں پیڑ سوکھے ہوٸے اور خُشک خُشک کنویں
حیات پیاس کا صحرا ہے کیا کیا جاٸے

شکستہ ناٶ ہے طوفاں زدہ سمندر میں
پھر أس دور جزیرہ ہےکیا کیا جاٸے

میں أس کو دیکھتا رہتا ہوں اس لیٸے نیّر
کہ أس کا حُسن ہی ایسا ہے کیا کیا جاٸے

نیر صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم