MOJ E SUKHAN

عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں

عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں
تمہارے نام اپنی زندگی کی کتاب کا انتساب لکھوں

وہ لمحہ کتنا عجیب تھا جب ہماری آنکھیں گلے ملی تھیں
میں کس طرح اب محبتوں کی شکستگی کے عذاب لکھوں

تمہی نے میرے اجاڑ رستوں پہ خواہشوں کے دیے جلائے
تمہی نے چاہا تھا خشک ہونٹوں سے چاہتوں کے گلاب لکھوں

کبھی وہ دن تھے کہ نیند آنکھوں کی سرحدوں سے پرے پرے تھی
مگر میں اب جب بھی سونا چاہوں تمہاری یادوں کے خواب لکھوں

میں تنہا لڑکی دیار شب میں جلاؤں سچ کے دیئے کہاں تک
سیاہ کاروں کی سلطنت میں میں کس طرح آفتاب لکھوں

قیادتوں کے جنوں میں جن کے قدم لہو سے رنگے ہوئے ہیں
یہ میرے بس میں نہیں ہے لوگو کہ ان کو عزت مآب لکھوں

یہی بہت ہے کہ ان لبوں کو صدا سے محروم کر کے رکھ دوں
مگر یہ کیسی مصالحت ہے سمندروں کو سراب لکھوں

نوشی گیلانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم