MOJ E SUKHAN

عجیب رونا سسکنا نواح جاں میں ہے

غزل

عجیب رونا سسکنا نواح جاں میں ہے
یہ اور کون مرے ساتھ امتحاں میں ہے

یہ رات گزرے تو دیکھوں طرف طرف کیا ہے
ابھی تو میرے لئے سب کچھ آسماں میں ہے

کٹے گا سر بھی اسی کا کہ یہ عجب کردار
کبھی الگ بھی ہے شامل بھی داستاں میں ہے

تمام شہر کو مسمار کر رہی ہے ہوا
میں دیکھتا ہوں وہ محفوظ کس مکاں میں ہے

نہ جانے کس سے تری گفتگو رہی بانیؔ
یہ ایک زہر کہ اب تک تری زباں میں ہے

راجیندر من چندا بانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم