MOJ E SUKHAN

عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارو

غزل

عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارو
میں اپنے سائے سے کل رات ڈر گیا یارو

ہر ایک نقش تمنا کا ہو گیا دھندلا
ہر ایک زخم مرے دل کا بھر گیا یارو

بھٹک رہی تھی جو کشتی وہ غرق آب ہوئی
چڑھا ہوا تھا جو دریا اتر گیا یارو

وہ کون تھا وہ کہاں کا تھا کیا ہوا تھا اسے
سنا ہے آج کوئی شخص مر گیا یارو

میں جس کو لکھنے کے ارمان میں جیا اب تک
ورق ورق وہ فسانہ بکھر گیا یارو

شہریار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم