MOJ E SUKHAN

عداوتوں میں جو خلق خدا لگی ہوئی ہے

غزل

عداوتوں میں جو خلق خدا لگی ہوئی ہے
محبتوں کو کوئی بد دعا لگی ہوئی ہے

پناہ دیتی ہے ہم کو نشے کی بے خبری
ہمارے بیچ خبر کی بلا لگی ہوئی ہے

کمال ہے نظر انداز کرنا دریا کو
اگرچہ پیاس بھی بے انتہا لگی ہوئی ہے

پلک جھپکتے ہی خواہش نے کینوس بدلا
تلاش کرنے میں چہرہ نیا لگی ہوئی ہے

تو آفتاب ہے جنگل کو دھوپ سے بھر دے
تری نظر مرے خیمے پہ کیا لگی ہوئی ہے

علاج کے لیے کس کو بلائیے صاحب
ہمارے ساتھ ہماری انا لگی ہوئی ہے

فیصل عجمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم