MOJ E SUKHAN

عرش تا فرش سیر کر دیکھا

غزل

عرش تا فرش سیر کر دیکھا
جلوہ گر تو ہوا جدھر دیکھا

چشم تحقیق سے جہاں ڈھونڈا
گبر ہوں تجھ سوا اگر دیکھا

قشریوں کی سمجھ پہ حیراں ہوں
دوسرا ہے کہاں کدھر دیکھا

تیر کے نام پر تڑپتا ہے
اس طرح کا کہیں جگر دیکھا

آبلہ آبلہ ہوئے سب عضو
نخل الفت نے یہ ثمر دیکھا

خبر اس کی کو کس سے پوچھوں میں
جس کو دیکھا سو بے خبر دیکھا

اپنے ہم چشم سے لگا کہنے
نالہ و آہ و شور و شر دیکھا

ٹک ایک انصاف سے اگر دیکھو
عشقؔ سا کوئی چشم تر دیکھا

خواجہ رکن الدین عشق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم