عرض ہے التجا ہے مِنت ہے
بس مجھے آپ کی ضرورت ہے
کوئی الزام مجھ پہ دھر دیجے
یہ بھی میرے لیئے غنیمت ہے
ذکر میرا کیا کریں سب سے
دل کا ارمان ہے یہ حسرت ہے
آپ کو بیر تو نہیں مجھ سے ؟
یہ علامت برائے الفت ہے
خیر اب جو بھی ہو مرے ہمدم
مان لیجے ہمیں محبت ہے
تم بھی خاور لگے رہو انتھک
ٹالنے کی انہیں بھی عادت ہے
خاور کمال صدیقی