غزل
عروج اپنی جگہ ہے زوال اپنی جگہ
مری حیات مرا اعتدال اپنی جگہ
اداسیاں اثر انداز ہو رہی ہیں الگ
بگولے بنتا ہوا اشتعال اپنی جگہ
ہے اس کی آنکھوں میں سچائی فیصلوں کی الگ
ہمارے چہرے پہ رنگِ ملال اپنی جگہ
جو تنگ دست ہیں ان کو انا کا زعم بہت
اداس اداس ہیں آسودہ حال اپنی جگہ
یہ تیرا حق ہے کہیں بھی تو خود کو لے جائے
ہمارے ذمہ تری دیکھ بھال اپنی جگہ
تری نظر کے دلاسوں کی اشتہا ہے الگ
روا روی کا تری احتمال اپنی جگہ
گھما رہا ہوں میں پرکار اپنی سوچوں پر
بدل رہا ہے نہج ہر سوال اپنی جگہ
بنا رہے ہیں سرِ عام اس کی تصویریں
فراق اپنی جگہ اور وصال اپنی جگہ
ادھر یہ وقت ہے کہ ہاتھ ہی نہیں آتا
ستا رہا ہے غمِ ماہ و سال اپنی جگہ
محسن اسرار