MOJ E SUKHAN

عروج اپنی جگہ ہے زوال اپنی جگہ

غزل

عروج اپنی جگہ ہے زوال اپنی جگہ
مری حیات مرا اعتدال اپنی جگہ

اداسیاں اثر انداز ہو رہی ہیں الگ
بگولے بنتا ہوا اشتعال اپنی جگہ

ہے اس کی آنکھوں میں سچائی فیصلوں کی الگ
ہمارے چہرے پہ رنگِ ملال اپنی جگہ

جو تنگ دست ہیں ان کو انا کا زعم بہت
اداس اداس ہیں آسودہ حال اپنی جگہ

یہ تیرا حق ہے کہیں بھی تو خود کو لے جائے
ہمارے ذمہ تری دیکھ بھال اپنی جگہ

تری نظر کے دلاسوں کی اشتہا ہے الگ
روا روی کا تری احتمال اپنی جگہ

گھما رہا ہوں میں پرکار اپنی سوچوں پر
بدل رہا ہے نہج ہر سوال اپنی جگہ

بنا رہے ہیں سرِ عام اس کی تصویریں
فراق اپنی جگہ اور وصال اپنی جگہ

ادھر یہ وقت ہے کہ ہاتھ ہی نہیں آتا
ستا رہا ہے غمِ ماہ و سال اپنی جگہ

محسن اسرار

 

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم