MOJ E SUKHAN

عشق اپنا عجب تماشہ ہے

Ishq Apna ajab Tamasha Hay

غزل

عشق اپنا عجب تماشہ ہے
اک جہاں ہے کہ ہم کو تکتا ہے

جیسے بے ماں کے طفل ہو یہ دل
آج کچھ اس طرح سے سہما ہے

تجھ کو پا کر بھی شاد کب تھا دل
تجھ کو کھو کر بھی ہاتھ ملتا ہے

آؤ اس دیس میں چلیں جس جا
عشق تپتا ہے روپ جلتا ہے

ایک ہی روپ کے ہیولے ہیں
گاہ سفیوؔ ہے گاہ میراؔ ہے

کتنا نازک ہے آبگینۂ دل
غنچہ چٹکے تو اور دکھتا ہے

بے خطر ہے عظیمؔ ہر غم سے
اس پہ آل نبی کا سایا ہے

عظیم قریشی

Azeem Qureshi

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم