MOJ E SUKHAN

عشق تک اپنی دسترس بھی نہیں

عشق تک اپنی دسترس بھی نہیں
اور دل مائل ہوس بھی نہیں

اب کہاں جائیں گے خراب بہار
آشیاں بھی نہیں قفس بھی نہیں

برق کی بیکسی کو روتا ہوں
اب نشیمن میں خار و خس بھی نہیں

کس نے دیکھا شگفتگی کا مآل
زندگی اتنی دور رس بھی نہیں

ہم اسیروں کے واسطے سرشار
رسم پابندئ قفس بھی نہیں

سرشار صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم