عشق نادان ہے تو یوں ہی سہی
ہم پہ احسان ہے تو یوں ہی سہی
دور جاکے ہمیں بھلا دینا
ایک امکان ہے تو یوں ہی سہی
تو محبت کے شہر میں بس کر
گر پریشان ہے تو یوں ہی سہی
تم کو لگتا ہے ہجر سہہ جانا
اتنا آسان ہے تو یوں ہی سہی
سچ کہا پیار صرف دھوکہ ہے
وہ پشیمان ہے تو یوں ہی سہی
زندگی اس کے بازوؤں میں اگر
غم کا عنوان ہے تو یوں ہی سہی
عمر بھر ساتھ اب نہ چھوٹے گا
گر یہ نقصان ہے تو یوں ہی سہی
پاس رہ کر بھی جان کر بھی اگر
ہم سے انجان ہے تو یوں ہی سہی
جاں ہتھیلی پہ لے کہ پھرنا کرن
تو مری جان ہے تو یوں ہی سہی
کرن رباب