MOJ E SUKHAN

عشق کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں

عشق کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
جاگتی پلکوں پہ کچھ خواب ہوا کرتے ہیں

ہر کوئی رو کے دکھا دے یہ ضروری تو نہیں
خشک آنکھوں میں بھی سیلاب ہوا کرتے ہیں

کچھ فسانے ہیں جو چہرے پہ لکھے رہتے ہیں
کچھ پسِ دیدۂ خونباب ہُوا کرتے ہیں

کچھ تو جینے کی تمنا میں مرے جاتے ہیں
اور کچھ مرنے کو بے تاب ہوا کرتے ہیں

تیرنے والوں پہ موقوف نہیں ہے خالدؔ
ڈوبنے والے بھی پایاب ہوا کرتے ہیں

خالد شریف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم