MOJ E SUKHAN

عشق کو معجزہ نما پایا

عشق کو معجزہ نما پایا
دل کے حجرے میں دلربا پایا

دیکھکر چاند جب تجھے دیکھا
عکس اس کا ہی با خدا پایا

تیرگی ڈھل گئ اجالوں میں
حسن کا معجزہ جدا پایا

جسم تو سوختہ ہوا دلبر
وصل کی آنچ پر جلا پایا

مرحلے دید کے میسر تھے
عشق کو صبر آزما پایا

آنکھ میں جیسے آٸنہ ٹھہرا
جلوہء عشق جا بجا پایا

گل بکھرنے لگے جو آندھی سے
بام و در اپنے میں سجا پایا

گلِ نسرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم