MOJ E SUKHAN

عشق کی بازی جیت کے ہاری جا سکتی ہے

غزل

عشق کی بازی جیت کے ہاری جا سکتی ہے
تیرے بنا بھی عمر گزاری جا سکتی ہے

ملنے میں ہے تجھ کو دھڑکا رُسوائی کا
اور فرقت میں جان ہماری جا سکتی ہے

میری آنکھوں کا آئینہ بھی تو دیکھو
اِس میں بھی تو زلف سنواری جا سکتی ہے

عقل و دانش، فہم و فراست اور ہمت سے
ڈوبتی نیّا پار اُتاری جا سکتی ہے

مل کر ہم کو لڑنا ہے دشمن سے، ورنہ
جان ہماری باری باری جا سکتی ہے

اپنی قدر و قیمت ہم سے بھی تو پوچھو
تم پر سے تو دنیا واری جا سکتی ہے

گھر کر بیٹھیں حرص و ہوس اور لالچ جس میں
کیا اُس دل سے دنیا داری جا سکتی ہے

شاعر علی شاعر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم