MOJ E SUKHAN

عشق کی دیوانگی مٹ جائے گی

غزل

عشق کی دیوانگی مٹ جائے گی
یا کسی کی زندگی مٹ جائے گی

ختم ہو جائے گا جب قصہ حضور
آپ کی حیرانگی مٹ جائے گی

آپ بھی روئیں گے شاید زارزار
پھول جیسی یہ ہنسی مٹ جائے گی

ایک دن بجھ جائیں گے یہ مہر و ماہ
یا نظر کی روشنی مٹ جائے گی

یا فنا ہو جائیں گی گلیاں تری
یا مری آواز ہی مٹ جائے گی

حسن بھی برباد ہو جائے گا دوست
اور دل کی دلکشی مٹ جائے گی

اس قدر آباد ہو جائیں گے لوگ
حسرت تعمیر ہی مٹ جائے گی

ذیشان ساحل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم