MOJ E SUKHAN

عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے

غزل

عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے
دل کے انگارے کو دہکاؤ کہ کچھ رات کٹے

ہجر میں ملنے شب ماہ کے غم آئے ہیں
چارہ سازوں کو بھی بلواؤ کہ کچھ رات کٹے

کوئی جلتا ہی نہیں کوئی پگھلتا ہی نہیں
موم بن جاؤ پگھل جاؤ کہ کچھ رات کٹے

چشم و رخسار کے اذکار کو جاری رکھو
پیار کے نامہ کو دہراؤ کہ کچھ رات کٹے

آج ہو جانے دو ہر ایک کو بد مست و خراب
آج ایک ایک کو پلواؤ کہ کچھ رات کٹے

کوہ غم اور گراں اور گراں اور گراں
غم زدو تیشے کو چمکاؤ کہ کچھ رات کٹے

مخدوم محی الدین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم