MOJ E SUKHAN

عقل داخل ہو گئی ہے وہم کے میدان میں

غزل

عقل داخل ہو گئی ہے وہم کے میدان میں
آسماں بانی بھی ہے اب حلقۂ امکان میں

عقل و دل کا سامنا تھا دیدۂ حیران میں
میں کھڑا ساحل پہ تھا وہ حلقۂ؎ طوفان میں

خلد سے دنیا میں آتے دم کہاں معلوم تھا
رنج و غم سو باندھ رکھے ہیں مرے سامان میں

دھند چھٹ جائے گی واعظ چار دن میں دیکھنا
ڈوب جائیں گے ترے قصے مرے اعلان میں

کفر اور الحاد کی ناخوبیوں کی بھیڑ میں
کوئی خوبی بھی تو ہوگی چین میں جاپان میں

میں ہجوم غم میں مرتا تھا نہ جیتا تھا سعیدؔ
وہ نظر آئے تو چندے جان آئی جان میں

سعید احمد اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم