MOJ E SUKHAN

عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تک

عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تک
ایک ہی رسم ملی کعبہ سے بت خانے تک

وادئ شب میں اجالوں کا گزر ہو کیسے
دل جلائے رہو پیغام سحر آنے تک

یہ بھی دیکھا ہے کہ ساقی سے ملا جام مگر
ہونٹ ترسے ہوئے پہنچے نہیں پیمانے تک

ریگزاروں میں کہیں پھول کھلا کرتے ہیں
روشنی کھو گئی آ کر مرے ویرانے تک

ہم نشیں کٹ ہی گیا دور خزاں بھی آخر
ذکر پھولوں کا رہا فصل بہار آنے تک

ساری الجھن ہے سکوں کے لیے اے شوق ٹھہر
غم کا طوفان بلا خیز گزر جانے تک

ذہن مایوس کرم شوق نظارہ سرشار
ہوش میں کیسے رہوں ان کا پیام آنے تک

زخم یادوں کے مہکتے ہیں کہ آئی ہے بہار
ہے یہ دولت غم دوراں کی خزاں آنے تک

بے نیازی ہے تغافل ہے کہ بے زاری ہے
بات اتنی تو سمجھ لیتے ہیں دیوانے تک

زندگی غم سے الجھتی ہی رہے گی ہمدم
وقت کی زلف گرہ گیر سلجھ جانے تک

منزل راہ طلب تھی تو کہیں اور مگر
رک گئے خود ہی قدم پہنچے جو مے خانے تک

سید احتشام حسین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم