MOJ E SUKHAN

علم بدست کہیں آئنہ بکف ہوں میں

علم بدست کہیں آئنہ بکف ہوں میں
ترے خلاف ہر اک سمت صف بہ صف ہوں میں

مجھے تلاش نہ کر تو کہ اک زمانہ ہوا
کتاب عشق کے ہر باب سے حذف ہوں میں

ہزار بھیس بدلتا رہوں مگر اس پار
کسی چمکتی ہوئی آنکھ کا ہدف ہوں میں

بدلتا رہتا ہوں ہر لمحہ اپنے خد و خال
کہیں گہر کہیں دریا کہیں صدف ہوں میں

ڈٹا ہوا ہوں ابھی تک محاذ پر شہزادؔ
اگرچہ ہارے ہوئے شاہ کی طرف ہوں میں

قمر رضا شہزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم