MOJ E SUKHAN

علم معرفت کا اڑاتا چلا ہوں

غزل

علم معرفت کا اڑاتا چلا ہوں
رموز حقیقت سجھاتا چلا ہوں

ترے التزام محبت کی خاطر
میں ہستی کو اپنی مٹاتا چلا ہوں

کبھی آزمائش نے گھیرا ہے مجھ کو
کبھی اس کو میں آزماتا چلا ہوں

حسیں جلوۂ رخ کی تابانیوں سے
رخ روح کو جگمگاتا چلا ہوں

مصائب سے انعامؔ بے خوف ہو کر
ہر اک گام پر مسکراتا چلا ہوں

انعام تھانوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم