MOJ E SUKHAN

عمر بھر درد کے رشتوں کو نبھانے سے رہا

غزل

عمر بھر درد کے رشتوں کو نبھانے سے رہا
زندگی میں تو ترے ناز اٹھانے سے رہا

جب بھی دیکھا تو کناروں پہ تڑپتا دیکھا
یہ سمندر تو مری پیاس بجھانے سے رہا

بس یہی سوچ کے سر اپنا قلم کر ڈالا
اب وہ الزام مرے سر تو لگانے سے رہا

اس زمانہ میں جہالت سے گزر ہوتی ہے
اب ہنر سے تو کوئی گھر کو چلانے سے رہا

ہم ہی ترکیب کریں کوئی اجالوں کے لئے
اب اندھیرا تو چراغوں کو جلانے سے رہا

وقت کے مرمریں پتھر پہ غزل لکھتا ہوں
یہ عبارت کوئی موسم تو مٹانے سے رہا

بے تعلق تو نہیں عمر گزاری ہے نفسؔ
رشتۂ غیر سہی کچھ تو زمانہ سے رہا

نفس انبالوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم