عہدِ نو کرنا ضروری ہوگیا
عشق کا دھرنا ضروری ہوگیا
جاگتے رہنے کی عادت پڑگئی
نیند سے ڈرنا ضروری ہوگیا
کیونکہ اب تُو صاحبِ مسند نہیں
تیرا دَم بھرنا ضروری ہوگیا
خالی پنگھٹ پر نظر آئے جو وہ
گاگریں بھرنا ضروری ہوگیا
بے وفاؤں کی شکستِ فاش تک
باوفا مرنا ضروری ہوگیا
جو کبھی سوچا نہ تھا کر پائیں گے
وہ بھی اب کرنا ضروری ہوگیا
کوئی بھرتا ہے خلش کا دَم اگر
اُس پہ دَم کرنا ضروری ہوگیا
سہیل ضرار خلش