MOJ E SUKHAN

غبار دشت جنوں یوں ہی نیک بخت نہ تھا

غزل

غبار دشت جنوں یوں ہی نیک بخت نہ تھا
وہاں بھی چھاوں تھی اس کی جہاں درخت نہ تھا

ہر ایک ہاتھ میں پتھر بلند ہو نے تک
خبر یہی تھی کہ بحران اتنا سخت نہ تھا

ہمیں بھی راہ دکھا تا کوئ ستارہء شام
سفر کی شام ہمارا ہی ایسا بخت نہ تھا

تمام عمر گزاری اس اعتماد کے ساتھ
کبھی ہما را جگر جیسے لخت لخت نہ تھا

غبار راہ تو ہو کا رواں کے ساتھ نہ ہو
سوائے میرے کسی اور کا یہ بخت نہ تھا

بڑے شعور سے کی ان سے گفتگو ہم نے
زبان موم نہ تھی اور کلام سخت نہ تھا

وطن کے عشق میں ہجرت قبول کی ورنہ
ذمین پیروں کے نیچے نہ تھی کہ تخت نہ تھا

جہاں اتر کے ستارا کوئ ٹہر جاتا
وہ بد نصیب تھا میں جس کا ایسا بخت نہ تھا

عباس حیدر زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم