MOJ E SUKHAN

غبار دل سے نکالا نظر کو صاف کیا

غزل

غبار دل سے نکالا نظر کو صاف کیا
پھر اس کے بعد محبت کا اعتراف کیا

جو وہ نہیں تھا تو میں متفق تھا لوگوں سے
وہ میرے سامنے آیا تو اختلاف کیا

ہر ایک جرم کی پاتا رہا سزا لیکن
ہر ایک جرم زمانے کا میں نے معاف کیا

وہ شب گزارنے آئے گا میرے کوچے میں
ہوائے شام نے دھیرے سے انکشاف کیا

اس انجمن میں میں آیا تھا جن کی مرضی سے
انہیں تمہاری نظر سے مرے خلاف کیا

ذیشان ساحل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم