MOJ E SUKHAN

غزلیں بھی بہت لکھیں اور گیت بہت گائے

غزل

غزلیں بھی بہت لکھیں اور گیت بہت گائے
ہم شعر کی عظمت کو لیکن نہ پہنچ پائے

کچھ ایسا انوکھا بھی انداز نہ تھا اپنا
کچھ لوگ مگر پھر بھی ہم کو نہ سمجھ پائے

ہم دل کی امیری سے اس درجہ تونگر تھے
جو خاک ملی ہم کو ہم سونا بنا لائے

مٹی میرے کھیتوں کی ہتھیا لی اسیروں نے
اور جتنے گھروندے تھے یاروں نے مرے ڈھائے

رہزن سے بچا لائے سب مال و متاع اپنی
گھر لوٹ گئے لیکن جو تھے مرے ہمسائے

ہم اہل ہنر اب تو اس حال پہ قانع ہیں
نے دھوپ ہے عارض کی نے گیسوؤں کے سائے

وہ عہد جوانی جو اس شہر میں کاٹا تھا
اے کاش کبھی وہ بھی اک روز پلٹ آئے

یہ آگ مرے گھر میں ہے اپنے چراغوں کی
دشمن کو ضرورت کیا چنگاری وہ بھڑکائے

دشمن کا نصیب اب تو یہ اپنی کرامت ہے
دہلیز پہ اس کی ہم نعمت یہ لٹا آئے

کرامت غوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم