MOJ E SUKHAN

غزل غزل میں ستائش ترے جمال کی ہے

غزل

غزل غزل میں ستائش ترے جمال کی ہے
یہ دل کشی تری آنکھوں میں کس غزال کی ہے

اتار دی ہے ہر اک پیڑ نے قبا اپنی
خزاں کی رت میں ادا موسم وصال کی ہے

ہے دل کی ڈور میں بیتے ہوئے دنوں کا حساب
کہ ایک ایک گرہ ایک ایک سال کی ہے

مہک اٹھی وہ جگہ دو گھڑی جہاں بیٹھے
کہ سانس سانس میں خوشبو ترے خیال کی ہے

کہی نہ اس سے کبھی دل کی بات اس ڈر سے
ہر ایک بات پہ عادت اسے سوال کی ہے

خلا سے لوٹ کے آؤں گا پھر زمیں کی طرف
مرا عروج علامت مرے زوال کی ہے

قمر اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم