MOJ E SUKHAN

غضب ہے اک بت کافر ادا نے لوٹ لیا

غزل

غضب ہے اک بت کافر ادا نے لوٹ لیا
کہ مجھ کو بندہ بنا کر خدا نے لوٹ لیا

یہ کس کی بزم میں کم بخت لے گئیں نظریں
نگاہ ناز نے مارا حیا نے لوٹ لیا

جو دل کے پاس تھا سرمایۂ حواس و خرد
نظر نے چھین لیا اور ادا نے لوٹ لیا

وہ دل کہ جس کو بچایا تھا دیر و کعبہ سے
تمہارے حسن ورا الوریٰ نے لوٹ لیا

نہیں نصیب جو تاج شہی کو بھی قیصرؔ
مزا وہ کاسۂ دست گدا نے لوٹ لیا

قیصر حیدری دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم