غزل
غضب ہے اک بت کافر ادا نے لوٹ لیا
کہ مجھ کو بندہ بنا کر خدا نے لوٹ لیا
یہ کس کی بزم میں کم بخت لے گئیں نظریں
نگاہ ناز نے مارا حیا نے لوٹ لیا
جو دل کے پاس تھا سرمایۂ حواس و خرد
نظر نے چھین لیا اور ادا نے لوٹ لیا
وہ دل کہ جس کو بچایا تھا دیر و کعبہ سے
تمہارے حسن ورا الوریٰ نے لوٹ لیا
نہیں نصیب جو تاج شہی کو بھی قیصرؔ
مزا وہ کاسۂ دست گدا نے لوٹ لیا
قیصر حیدری دہلوی