MOJ E SUKHAN

غلط کی ہجر میں حاصل مجھے قرار نہیں

غلط کی ہجر میں حاصل مجھے قرار نہیں
اسیر یاس ہوں پابند انتظار نہیں

ہے ان کے عہد وفا سے مناسبت دل کو
اسے قیام نہیں ہے اسے قرار نہیں

یہاں تو ضبط جنوں پر نہ کر مجھے مجبور
فضائے دشت ہے اے عقل بزم یار نہیں

قفس میں ڈالے گا کس کس کو آخر اے صیاد
اسیر دام وفا سو نہیں ہزار نہیں

جہاں میں بلبلٔ باغ خزاں نصیب ہوں میں
مری نواؤں میں رنگینیٔ بہار نہیں

تلوک چند محروم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم