MOJ E SUKHAN

غموں کی دھوپ میں برگد کی چھاؤں جیسی ہے

غموں کی دھوپ میں برگد کی چھاؤں جیسی ہے
مرے لیے مری ہمشیر ماؤں جیسی ہے

بھٹکتا ہوں تو مجھے راستہ دکھاتی ہے
وہ ہم سفر ہے مگر رہنماؤں جیسی ہے

ہو جیسے ایک ہی کنبے کی ساری آبادی
فضا ہمارے محلے کی گاؤں جیسی ہے

نئے بشر نے مسخر کئے مہ و انجم
نئے دماغ میں وسعت خلاؤں جیسی ہے

حقیقتوں کے مقابل ٹھہر نہیں سکتی
پرانی فکر بھی جھوٹے خداؤں جیسی ہے

خلا نوردوں کی منزل نہیں پڑاؤ ہے
مثال چاند کی سپراؔ سراؤں جیسی ہے

تنویر سپرا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم