MOJ E SUKHAN

غم جاناں غم دوراں بہت ہیں غم زمانے میں

غزل

غم جاناں غم دوراں بہت ہیں غم زمانے میں
مگر جو غم کو اپنائے بہت ہیں کم زمانے میں

خود ہی اپنا پتا رکھو خود ہی اپنی خبر رکھو
سبھی مدھم سبھی باطن سبھی مبہم زمانے میں

میں کس کو کیا کہوں معصوم ہیں سارے بظاہر تو
بدل جاتا ہے لیکن دفعتاً موسم زمانے میں

کرو وعدہ کہ تم آؤ گے اس محفل کو جاں دینے
سجائیں گے کبھی جو دل کی محفل ہم زمانے میں

ماہم شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم