MOJ E SUKHAN

غم سے بہل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں

غم سے بہل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں

درد میں ڈھل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں

۔

سایۂ وصل کب سے ہے آپ کا منتظر مگر

ہجر میں جل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں

۔

اپنے خلاف فیصلہ خود ہی لکھا ہے آپ نے

ہاتھ بھی مل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں

۔

وقت نے آرزو کی لو دیر ہوئی بجھا بھی دی

اب بھی پگھل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں

۔

دائرہ وار ہی تو ہیں عشق کے راستے تمام

راہ بدل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں

۔

اپنی تلاش کا سفر ختم بھی کیجئے کبھی

خواب میں چل رہے ہیں آپ آپ بہت عجیب ہیں

پیرزادہ قاصم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم