MOJ E SUKHAN

غم سے جو آشنا نہیں ہوتا

غم سے جو آشنا نہیں ہوتا
آدمی کام کا نہیں ہوتا

آپ ہم گام جب نہیں ہوتا
راستا ، راستا نہیں ہوتا

ہرکماں تیرزن نہیں ہوتی
ہر نشانہ خطا نہیں ہوتا

یوں تو ہر شے بچھڑ کے رہتی ہے
اِک ترا غم جُدا نہیں ہوتا

بات کا اِذن مِل تو جاتا ہے
بات کا حوصلہ نہیں ہوتا

حسن والوں کی آنکھ میں مفتی ؔ
احترام ِ وفانہیں ہوتا

سید عبد الستار مفتی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم