MOJ E SUKHAN

غم سے گھبرا کے قیامت کا طلب گار نہ بن

غزل

غم سے گھبرا کے قیامت کا طلب گار نہ بن
اتنا مایوس کرم اے دل بیمار نہ بن

خواہش دید ہے تو تاب نظر پیدا کر
ورنہ بہتر ہے یہی طالب دیدار نہ بن

مجھے منظور ہے یہ برق گرا دے مجھ پر
مجھ سے بیگانہ مگر اے نگہ یار نہ بن

دامن حال کو بھی پھولوں سے بھر دے ناداں
صرف مستقبل رنگیں کا طرفدار نہ بن

بالیقیں منزل مقصود ملے گی مجھ کو
نا امیدی تو مری راہ کی دیوار نہ بن

ہے رہائی کی تمنا تو گرا دے دیوار
قید زنداں میں رہین غم دیوار نہ بن

لائق حمد ہے وہ جس کی ضیا ہے ان میں
کم نظر چاند ستاروں کا پرستار نہ بن

میں خطا‌ وار ہوں تو مجھ کو مٹا دے صیاد
سارے گلشن کے لئے باعث آزار نہ بن

ایسے اقدام کا حاصل ہے یہاں ناکامی
بزم ساقی ہے یہ کشفیؔ یہاں خوددار نہ بن

کشفی لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم