MOJ E SUKHAN

غم چھپاؤں کہ آشکار کروں

غزل

غم چھپاؤں کہ آشکار کروں
کون سی وضع اختیار کروں

حادثوں سے نگاہ چار کروں
غم کے لمحوں کو شاہکار کروں

اور کیا ہے جو نذر یار کروں
جی میں آتا ہے جاں نثار کروں

زندگی کو ہی جب ثبات نہیں
اور پھر کس کا اعتبار کروں

تم بھی محبوب زندگی بھی عزیز
تم کو چاہوں کہ خود سے پیار کروں

اور بھی مشغلے ہیں وحشت کے
کیوں گریباں ہی تار تار کروں

کیا قیامت سے کم ہے شام فراق
اور کس دن کا انتظار کروں

ہر سہارا ہے جب ترا محتاج
کیوں سہاروں پہ انحصار کروں

ضبطؔ جب ضبط غم کی ہے تاکید
کیوں نہ یہ جبر اختیار کروں

ضبط انصاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم