MOJ E SUKHAN

غم کی تصویر بن گیا ہوں میں

غم کی تصویر بن گیا ہوں میں
ان کی توقیر بن گیا ہوں میں

خوابِ پنہاں تھے آپ کے جلوے
جن کی تعبیر بن گیا ہوں میں

آج ہستی ہے کیوں تبسم ریز
کس کی تقدیر بن گیا ہوں میں

آپ چُھپ چُھپ کے مسکراتے ہیں
وجہِ تشہیر بن گیا ہوں میں

جو بھی ہے ہم خیال ہے میرا
حسنِ تحریر بن گیا ہوں میں

اب دعاؤں کو ہے مری حاجت
لَبِ تاثیر بن گیا ہوں میں

دم بخود ہیں شکیبؔ لوح و قلم
حُسنِ تدبیر بن گیا ہوں میں

شکیب جلالی​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم