MOJ E SUKHAN

غم کے ہاتھوں مرے دل پر جو سماں گزرا ہے

غزل

غم کے ہاتھوں مرے دل پر جو سماں گزرا ہے
حادثہ ایسا زمانے میں کہاں گزرا ہے

زندگی کا ہے خلاصہ وہی اک لمحۂ شوق
جو تری یاد میں اے جان جہاں گزرا ہے

حال دل غم سے یہ ہے جیسے کسی صحرا میں
ابھی اک قافلۂ نوحہ گراں گزرا ہے

بزم دوشیں کو کرو یاد کہ اس کا ہر رند
رونق بار گہ پیر مغاں گزرا ہے

پا بہ گل جو تھے وہ آزردہ نظر آتے ہیں
شاید اس راہ سے وہ سرو رواں گزرا ہے

نگرانیٔ دل و دیدہ ہوئی ہے دشوار
کوئی جب سے مری جانب نگراں گزرا ہے

حال دل سن کے وہ آزردہ ہیں شاید ان کو
اس حکایت پہ شکایت کا گماں گزرا ہے

وہ گل افشانیٔ گفتار کا پیکر سالکؔ
آج کوچے سے ترے اشک فشاں گزرا ہے

عبدالمجید سالک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم