MOJ E SUKHAN

غیر سے ہی کیوں گلہ شکوہ رہے

غزل

غیر سے ہی کیوں گلہ شکوہ رہے
مشکلوں میں اپنا کب اپنا رہے

روٹھنے کے وقت یہ رکھو خیال
لوٹ کر آنے کا کچھ رستہ رہے

چاہے کچھ بھی ہو تعلق عرش سے
فرش سے انسان کا رشتہ رہے

ہر کسی کے دل میں ہو یہ آرزو
دوستوں سے قد مرا اونچا رہے

جھوٹا وعدہ کرنے کو سمجھو گناہ
چاہے حالت کتنی بھی خستہ رہے

پیری میں کرنے لگے ہیں حجتیں
عمر بھر پروازؔ بے پروا رہے

درشن دیال پرواز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم