MOJ E SUKHAN

فرض بن کر ادا ہو گئی میں

فرض بن کر ادا ہو گئی میں
اور خود سے جدا ہو گئی میں

اک قدم جس پہ خود چل نہ پائی
ایسا اک راستا ہو گئی میں

کیسی جادو بھری تھی نظر وہ
کیا تھی اور کیا سے کیا ہو گئی میں

وہ جو سوچوں کو مفلوج کر دے
ایسا اک سانحہ ہو گئی میں

راہ بدلی ہے کیوں کیا بتاؤں
یوں سمجھ بے وفا ہو گی میں

جو بنا جرم کے مل رہی ہو
ایک ایسی سزا ہو گی میں

کچھ بھی دیکھا نہ سوچا نہ جانا
عشق میں مبتلا ہو گئی میں

عکس نے مجھ کو دیکھا کچھ ایسے
آئینہ آئینہ ہو گئی میں

جب پڑھا میں نے مومن کو تب سے
رنج راحت فزا ہو گئی میں

حمیرا راحت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم