MOJ E SUKHAN

فریاد کہ وہ شوخ ستم گار نہ آیا

غزل

فریاد کہ وہ شوخ ستم گار نہ آیا
مجھ قتل کوں لے ہاتھ میں تلوار نہ آیا

میں پنبہ نمن نرم کیا بستر تن کوں
وہ پیو قدم دھرنے کو یکبار نہ آیا

چھٹ آہ پچھے کون مرے درد کا احوال
مجھ دکھ کی خبر لینے وہ غم خوار نہ آیا

جانے ہے وفادار مجھے دل منے لیکن
دہشت سے رقیباں کی وہ ناچار نہ آیا

آرام گیا بھوک نہیں نیند گئی بھول
افسوس کہ وہ طالع بیدار نہ آیا

بلبل کی نمن آس ہے نت باس کی مجھ کوں
صد حیف مرے پاس وہ گلزار نہ آیا

بازار سخن گرم کیا اوس کی صفت سوں
مجھ شعر کا ہیہات خریدار نہ آیا

لکھ بار سہا باغ میں مالی کا تہورا
پر سیر کتیں وہ گل بے خار نہ آیا

اے مبتلاؔ یہ بات لکھا دل کے اوپر میں
اک روز مجھ آغوش میں وہ یار نہ آیا

عبید اللہ خاں مبتلا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم