غزل
فسانہ عشق کا وہ اس طرح دہرائے جاتے ہیں
زباں خاموش ہے نظروں سے کچھ سمجھائے جاتے ہیں
کسی نے بے رخی سمجھا کوئی لطف و کرم سمجھا
کچھ اس انداز سے محفل میں وہ شرمائے جاتے ہیں
کہیں ایسا نہ ہو یا رب مری توبہ پہ بن آئے
یہ بادل آج گھر گھر کر مجھے بہکائے جاتے ہیں
مجھے اب دل کی دھڑکن سے یہی محسوس ہوتا ہے
تمناؤں کی دنیا میں وہ جیسے آئے جاتے ہیں
قفس اچھا ہے ایسے آشیاں سے اے چمن والو
جہاں ظلم و ستم ہر وقت ہم پر ڈھائے جاتے ہیں
قدم چومے گی ان کے کامیابی ایک دن بڑھ کر
سفینہ اپنا جو طوفان سے ٹکرائے جاتے ہیں
وفور شوق میں اے دردؔ میرا اب یہ عالم ہے
جدھر نظریں اٹھاتا ہوں وہیں وہ پائے جاتے ہیں
عبدالمجید درد بھوپالی