MOJ E SUKHAN

فسانہ عشق کا وہ اس طرح دہرائے جاتے ہیں

غزل

فسانہ عشق کا وہ اس طرح دہرائے جاتے ہیں
زباں خاموش ہے نظروں سے کچھ سمجھائے جاتے ہیں

کسی نے بے رخی سمجھا کوئی لطف و کرم سمجھا
کچھ اس انداز سے محفل میں وہ شرمائے جاتے ہیں

کہیں ایسا نہ ہو یا رب مری توبہ پہ بن آئے
یہ بادل آج گھر گھر کر مجھے بہکائے جاتے ہیں

مجھے اب دل کی دھڑکن سے یہی محسوس ہوتا ہے
تمناؤں کی دنیا میں وہ جیسے آئے جاتے ہیں

قفس اچھا ہے ایسے آشیاں سے اے چمن والو
جہاں ظلم و ستم ہر وقت ہم پر ڈھائے جاتے ہیں

قدم چومے گی ان کے کامیابی ایک دن بڑھ کر
سفینہ اپنا جو طوفان سے ٹکرائے جاتے ہیں

وفور شوق میں اے دردؔ میرا اب یہ عالم ہے
جدھر نظریں اٹھاتا ہوں وہیں وہ پائے جاتے ہیں

عبدالمجید درد بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم