MOJ E SUKHAN

فسانۂ غم جاناں کسی پہ بار نہیں

غزل

فسانۂ غم جاناں کسی پہ بار نہیں
اب اپنے دل کے سوا کوئی رازدار نہیں

مری نگاہ کی رفعت پہ ہے مدار اس کا
تری ادا پہ محبت کا انحصار نہیں

بدل نہ جائے کہیں میرے اعتماد کا رخ
وہ معتبر ہے یہاں جس کا اعتبار نہیں

اک ایسا جام ادھر بھی بہار کے ساقی
بقدر ظرف ابھی تک مجھے خمار نہیں

بضد ہے آج جہاں کو تباہ کرنے پر
یہ آدمی کہ جسے کوئی اختیار نہیں

کچھ اس طرح سے ہوئی ہے چمن کی نشو و نما
مری نگاہ کی حد تک کہیں بہار نہیں

خزاں نصیب ہیں اب تک فضائیں گلشن کی
چمن کے ظرف میں گنجائش بہار نہیں

فضائیں گونج اٹھیں گی مرے ترانوں سے
خموش ہوں کہ ابھی موسم بہار نہیں

مزاج دل کا سمجھ میں نہ آ سکا میکشؔ
خوشی بھی راس نہیں غم بھی سازگار نہیں

استاد عظمت حسین خاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم