MOJ E SUKHAN

فصیل شہر سے نکلو بھلا اسی میں ہے

غزل

فصیل شہر سے نکلو بھلا اسی میں ہے
کہ زلزلوں کی حکومت گلی گلی میں ہے

دیا کہیں بھی جلانا مجھے خبر کرنا
مرے لہو کا اجالا بھی روشنی میں ہے

وہ مسکرا کے خدا کا پتا بتاتا ہے
نہ جانے کون سا جادو اس آدمی میں ہے

چلا ہوں موت کے پیکر کو قتل کرنے مگر
یہ وصف خاص تو خود میری زندگی میں ہے

دریچے اپنے کھلے رکھنا شب کے پچھلے پہر
سنا ہے عشق کا انداز چاندنی میں ہے

قیس رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم