MOJ E SUKHAN

فضائیں خشک تھیں گھر کی تو باہر کیوں نہیں دیکھا

غزل

فضائیں خشک تھیں گھر کی تو باہر کیوں نہیں دیکھا
دریچوں سے وہ ہنگاموں کا منظر کیوں نہیں دیکھا

زمیں کے خشک لب یہ موسموں کا زہر پیتے ہیں
تو تم نے آسمانوں کا سمندر کیوں نہیں دیکھا

فضاؤں کی کسک سے کچھ تقاضے بھی بدلتے ہیں
ہوس لمحات کو تم نے کچل کر کیوں نہیں دیکھا

سنا یہ ہے سمندر میں جزیرے بھی نمایاں تھے
ہٹا کر بادباں تم نے ٹھہر کر کیوں نہیں دیکھا

جو گھر میں چھوڑ آیا تھا کفن اوڑھے ہوئے رشتے
نہ جانے اس نے بستی کو پلٹ کر کیوں نہیں دیکھا

سنا ہے برف سے بھی انگلیاں لوگوں کی جلتی ہیں
تو تم نے سرد انگاروں کو چھو کر کیوں نہیں دیکھا

جناب رندؔ تم تو پوجتے آئے ہو پتھر کو
جو دروازے پہ چسپاں ہے وہ پتھر کیوں نہیں دیکھا

پی پی سری واستو رند

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم