Fail Daeel Main agar lafz na tolay jatay
غزل
فعل فاعل میں اگر لفظ نہ تولے جاتے
روز مرہ کی جگہ شعر ہی بولے جاتے
کتنے عقرب ہیں چھپے صاف حقیقت كهلتی
بند ہونٹوں کے کہیں قفل جو کھولے جاتے
حسنِ اخلاق سے دنیائیں منور ہوتیں
فکرِ عالم میں اگر زہر نہ گھولے جاتے
زندگی لمس کی مرہون ہے، مانا صاحب
پھر بھی جذبات اگر دل کے ٹٹولے جاتے
مول تعبیر کا لا ریب لگایا جاتا
لاکھ نقصان تھا پر خواب نہ رولے جاتے
اک ملاقات کا دل سینے میں سانسیں لیتا
تیری خوشبوئے سخن دل میں سمو لے جاتے
عقد نامے پہ انگوٹھے کو لگانے کے لئے
انگلیاں خونِ محبت میں ڈبو، لے جاتے
شائستہ کنول عالی
Shaista Kanwal Aali