فلک سے خاک پہ لایا ہوا ہوں
کسی دشمن کا بہکایا ہوا ہوں
مرے آنسو ترے غم کا تدارک
بس اتنا ہے کہ بہلایا ہوا ہوں
مرے رستے میں سورج آ گیا ہے
تجھے لگتا ہے گہنایا ہوا ہوں
مرے غم میں بھی پرچم سر نگوں رکھ
برائے عشق دفنایا گیا ہوں
مری عظمت کا مجھ سے پوچھتے ہو
زبانِ حق سے فرمایا ہوا ہوں
وہ موسم آج تک دیکھا نہیں ہے
میں جس غم میں سنو لایا ہوا ہوں
مشتاق خلیل