MOJ E SUKHAN

فلک سے خاک پہ لایا ہوا ہوں

فلک سے خاک پہ لایا ہوا ہوں
کسی دشمن کا بہکایا ہوا ہوں

مرے آنسو ترے غم کا تدارک
بس اتنا ہے کہ بہلایا ہوا ہوں

مرے رستے میں سورج آ گیا ہے
تجھے لگتا ہے گہنایا ہوا ہوں

مرے غم میں بھی پرچم سر نگوں رکھ
برائے عشق دفنایا گیا ہوں

مری عظمت کا مجھ سے پوچھتے ہو
زبانِ حق سے فرمایا ہوا ہوں

وہ موسم آج تک دیکھا نہیں ہے
میں جس غم میں سنو لایا ہوا ہوں

مشتاق خلیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم