MOJ E SUKHAN

فکر کو باندی بنانے سے رہا

فکر کو باندی بنانے سے رہا
شاہ کی جوتی اٹھانے سے رہا

کاسہ لیسوں سے مری بنتی نہیں
اس طرح عزت کمانے سے رہا

آنے والوں کی کرے گا رہبری
سانحے کو میں چھپانے سے رہا

اپنے قد پر ہے یقیں اس واسطے
تخت سے تجھ کو گرانے سے رہا

مجھ تلک محدود ہیں میرے الم
ہر کسی کو اب سنانے سے رہا

کب تلک تجھ کو دھکیلوں اے بدن
اور دھکا اب لگانے سے رہا

دل کی مسند سے گرا سوگر گیا
میں اسے جھک کر اٹھانے سے رہا

خوں کے قطروں سے لکھے ماجد ستم
اب لگی لپٹی سنانے سے رہا

ماجدجہانگیرمرزا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم