MOJ E SUKHAN

قابل شرح مرا حال دل زار نہ تھا

غزل

قابل شرح مرا حال دل زار نہ تھا
سننے والے تو بہت تھے کوئی غم خوار نہ تھا

اب وہ جینے کے لئے سوچ رہا ہے تدبیر
اپنے ہاتھوں جسے مرنا کبھی دشوار نہ تھا

مجھ سے پوچھو تو قضا اس کی ہے موت اس کی ہے
دوش احباب پہ جو مر کے گراں بار نہ تھا

چنتے تھے باغ میں آ آ کر انہیں اہل جنوں
آشیاں کا مرے تنکا کوئی بے کار نہ تھا

یہ ہمیں نے تو محبت کی نکالیں رسمیں
آپ پر مرنے کو پہلے کوئی تیار نہ تھا

دام صیاد میں آزاد رہا شکوۂ غم
میں گرفتار تھا لیکن یہ گرفتار نہ تھا

اب انہیں سامنے آنے میں ہے عذر اے بسملؔ
ملنے جلنے سے جنہیں پیشتر انکار نہ تھا

بسمل الہ آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم